تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| آج اگر دنیا کے نقشے پر بہنے والے خون، راکھ بنتے شہروں، اجڑتی بستیوں، یتیم بچوں، بے آسرا ماؤں اور کروڑوں انسانوں کی آہوں کا محاسبہ کیا جائے تو ایک طاقت کا نام بار بار سامنے آتا ہے اور وہ ہے امریکہ۔
وہ امریکہ جو امن، جمہوریت، انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے بلند بانگ دعوے کرتا ہے، مگر اس کی شیطانی سیاست اور پالیسی یہ ہے کہ جہاں اس کے سیاسی و معاشی مفادات ہوتے ہیں وہاں قانون، اخلاق اور انسانیت سب پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ عراق سے افغانستان، شام سے یمن، افریقا سے لاطینی امریکہ، اور اب ایران تک، اس کی مداخلت نے بے شمار خطوں کو جنگ، تباہی، بے یقینی اور خونریزی کی بھٹی میں جھونک دیا۔
امریکہ کی طاقت کا پیمانہ انصاف نہیں، مفاد ہے؛ اس کی دوستی کا معیار اصول نہیں، فائدہ ہے؛ اور اس کی خارجہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ اس نے دنیا کو امن سے زیادہ اسلحہ، استحکام سے زیادہ بحران اور امید سے زیادہ خوف دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں اس کا سایہ پڑتا ہے، وہاں اکثر بارود کی بو، اقتصادی پابندیاں، سیاسی دباؤ اور انسانی المیے جنم لیتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاریخ کا فیصلہ طاقت کے ایوانوں میں نہیں، مظلوموں کے لہو سے لکھا جاتا ہے۔ اور جب کبھی دنیا اپنے زخموں کا حساب کرے گی تو اسے یہ سوال ضرور ستائے گا کہ کیا عالمی قیادت کا مطلب انسانیت کی حفاظت تھا یا طاقت کے زور پر اپنی مرضی مسلط کرنا؟
اس پوری کشیدگی میں اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین کی سرزمین کئی دہائیوں سے آگ اور خون میں نہا رہی ہے۔ غزہ کے تباہ شدہ اسپتال، ملبے میں تبدیل ہوتے اسکول، معصوم بچوں کی لاشیں اور بے گھر خاندان انسانیت کے ماتھے پر ایسا داغ ہیں جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ اس سب کے باوجود اسرائیل کو عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کی مسلسل سیاسی، عسکری اور سفارتی حمایت ملتی رہی ہے۔ یہی حمایت اسے مزید جارحانہ اقدامات کی جرأت دیتی ہے۔
آج ایران بھی اسی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک ایسا ملک جس نے سخت پابندیوں اور مسلسل دباؤ کے باوجود سائنس، طب، دفاع، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی، اسے بار بار دھمکیوں، پابندیوں اور فوجی حملوں کی زد میں رکھا گیا۔ جب کسی قوم کی ترقی کو طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اصل نقصان صرف ایک ریاست کا نہیں، بلکہ پورے خطے کے امن کا ہوتا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا المیہ صرف جنگ نہیں، بلکہ طاقتوروں کا دوہرا معیار ہے۔ جہاں مفادات ہوں وہاں خاموشی، اور جہاں کمزور ہوں وہاں قانون کی دہائیاں۔ بین الاقوامی ادارے، انسانی حقوق کے نعرے اور عالمی انصاف کے دعوے اس وقت بے معنی محسوس ہوتے ہیں جب ہزاروں بے گناہ انسانوں کا خون بہہ رہا ہو اور طاقتور ریاستیں جواب دہی سے بالاتر دکھائی دیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، مگر وہ ہمیشہ باقی نہیں رہتا۔ قومیں ہتھیاروں سے نہیں، عدل سے زندہ رہتی ہیں۔ اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو اسے طاقت کے غرور کے بجائے انصاف کی بنیاد پر فیصلے کرنے ہوں گے۔ ورنہ جنگوں کی یہ آگ صرف ایک خطے کو نہیں، پوری انسانیت کے مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔









آپ کا تبصرہ